Bharay darbar mei roti rahi khari zahra sa
بھرے دربار میں روتی رہی کھڑی زہرا ؑ
شاعر: توقیرؔ کمالوی سوز:وحید کمالوی
بھرے دربار میں روتی رہی کھڑی زہرا ؑ
نہ جانے کس طرح حق مانگتی رہی زہرا ؑ
سند کے ٹکڑے ہوا میں اڑا کر ھنسنے لگا
رسولؐ زادی سے گستاخ ایسے کہنے لگا
بتا وہ کون سی جاگیر ہے تیری زہرا ؑ
حسنؑ، حسینؑ سے سچے گواہ بھی جھٹلائے
رُلا کے بی بی ؑ کو ظالم ذرا نہ شرمائے
بھلا نہ پائے گی امت کی بے رخی زہرا ؑ
یہ اس کی بیٹی ہے جس نے دو لخت چاند کیا
وہ جس کے نور نے ہر روشنی کو ماند کیا
اُسے ستاؤ نہ دکھیاری ہے بڑی زہرا ؑ
سیاہ بال جو ماں کے سفید تر دیکھے
توقیرؔ کیسے کہوں بیٹیوں نے سر پیٹے
گئی تھی اس طرح گھر آئے تھکی تھکی زہراؑ
No comments:
Post a Comment